×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

جو انا کی صفت ہے ذاتی ہے

جو انا کی صفت ہے ذاتی ہے
یہ نہ آتی ہے یہ نہ جاتی ہے

جب کوئی فکر چھٹپٹاتی ہے
تب کہاں نیند ویند آتی ہے

آج دانستہ بنت حوا خود
اشتہاروں کے کام آتی ہے

یوں دبے پاؤں آتی تیری یاد
جس طرح صبح دھوپ آتی ہے

میں فدائین ہو گیا شاید
ہر قدم میرا آتم‌ گھاتی ہے

اب محبت ہے مصلحت آمیز
اب کہاں جوئے شیر لاتی ہے

لوگ اب فیصلہ بتاتے ہیں
اور عدالت بھی مان جاتی ہے

زندگی کی نمود بھی اعظمؔ
سانحاتی ہے حادثاتی ہے


...
0:00
0:00
0:00