×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا

وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا
کبھی دھواں تو کبھی چاندنی سا لگتا تھا

ہماری آگ بھی تاپی ہمیں بجھا بھی دیا
جہاں پڑاؤ کیا تھا عجیب صحرا تھا

ہوا میں میری انا بھیگتی رہی ورنہ
میں آشیانے میں برسات کاٹ سکتا تھا

جو آسمان بھی ٹوٹا گرا مری چھت پر
مرے مکاں سے کسی بد دعا کا رشتہ تھا

تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی
قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

زمیں پہ ٹوٹ کے کیسے گرا غرور اس کا
ابھی ابھی تو اسے آسماں پہ دیکھا تھا

بھنور لپیٹ کے نیچے اتر گیا شاید
ابھی وہ شام سے پہلے ندی پہ بیٹھا تھا

میں شاخ زرد کے ماتم میں رہ گیا قیصرؔ
خزاں کا زہر شجر کی جڑوں میں پھیلا تھا


...
0:00
0:00
0:00