×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں
نادان ہیں مثبت میں نفی ڈھونڈ رہے ہیں

گل ڈھونڈ رہے ہیں نہ کلی ڈھونڈ رہے ہیں
گلشن میں بس اک شاخ ہری ڈھونڈ رہے ہیں

اس یگ میں کہاں ہم بھی ولی ڈھونڈ رہے ہیں
انساں میں صفات بشری ڈھونڈ رہے ہیں

بادل کی سیاہی میں کرن جیسی چمکتی
ہر غم میں چھپی ہم بھی خوشی ڈھونڈ رہے ہیں

اک شعر جو موزوں نہیں کر پائے ہیں اب تک
غالبؔ کی غزل میں بھی کمی ڈھونڈ رہے ہیں

مدت سے تقاضہ ہے کہ لوٹا دو مرا دل
مدت سے بہانا ہے ابھی ڈھونڈ رہے ہیں

تہذیب و تمدن کو خلوص اور وفا کو
اعظمؔ ہی نہیں آج سبھی ڈھونڈ رہے ہیں


...
0:00
0:00
0:00