×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

پر لطف سکوں بخش ہوائیں بھی بہت تھیں

پر لطف سکوں بخش ہوائیں بھی بہت تھیں
گلشن میں تعصب کی وبائیں بھی بہت تھیں

خود میں نے ہی رکھا نہ خیال اپنا کبھی بھی
غیروں کی کچھ اپنوں کی جفائیں بھی بہت تھیں

صورت پہ اجالے تھے اگر شمس و قمر کے
زلفوں کی سیاہی میں گھٹائیں بھی بہت تھیں

تھی عہد جوانی میں محبت ہی محبت
ناکردہ گناہوں کی سزائیں بھی بہت تھیں

مبہوت تھے مسحور تھے سب دیکھ کے اس کو
شفاف سراپا تھا ادائیں بھی بہت تھیں

ہر وقت مرے ساتھ تھے اسباب تباہی
قسمت تھی خراب اپنی خطائیں بھی بہت تھیں

اک روز قضا لے گئی بیمار کو اعظمؔ
تھے جب کہ مسیحا بھی دوائیں بھی بہت تھیں


...
0:00
0:00
0:00