دیار اہل کرم کا طواف اپنی جگہ
دیار اہل کرم کا طواف اپنی جگہ
ابھر رہا ہے کہیں انحراف اپنی جگہ
بصیرتیں تو ہوا کے خلاف چلتی ہیں
ہوا کرے یہ زمانہ خلاف اپنی جگہ
مری کتاب کا بین السطور ہے کچھ اور
بڑائیوں کا تری اعتراف اپنی جگہ
حسین چہروں کی بے چہرگی ہے ایک طرف
نظر پہ حسن نظر کا غلاف اپنی جگہ
ہیلو کی ہائے کی تہذیب ہے بلندی پر
خلوص و مہر کا گرتا گراف اپنی جگہ
وہ روج ٹی وی پہ تاجا خبر سنائے گا
سنبھالے بیٹھے رہو شین قاف اپنی جگہ
انہی کو ملتا ہے اعزاز دور بینی کا
جنہیں دکھائی نہ دے صاف صاف اپنی جگہ
حیات و موت ہیں اقدار مشترک فاروق
خدا کے باب میں ہر اختلاف اپنی جگہ
Join the conversation