×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے

باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے
دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے

زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ
آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے

خود نمائی میں کچھ اس طرح گرفتار ہیں ہم
اور لوگوں کو نمایاں نہیں ہونے دیتے

عقل کو شوخئ باطل میں پھنسانے والے
قلب کو صاحب ایماں نہیں ہونے دیتے

غم سے نسبت ہے جنہیں ضبط الم کرتے ہیں
اشک کو زینت داماں نہیں ہونے دیتے

روح افکار کو معیار عطا کرتے ہیں
ہم خیالات کو عریاں نہیں ہونے دیتے

چند لمحے وہ مرے سامنے رہ کر ابرارؔ
چشم بیتاب کو حیراں نہیں ہونے دیتے


...