×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی

    تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
    جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی

    اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
    صید سے بھی ہیں مراسم ترے صیاد سے بھی

    کیوں سرکتی ہوئی لگتی ہے زمیں یاں ہر دم
    کبھی پوچھیں تو سبب شہر کی بنیاد سے بھی

    برق تھی یا کہ شرار دل آشفتہ تھا
    کوئی پوچھے تو مرے آشیاں برباد سے بھی

    بڑھتی جاتی ہے کشش وعدہ گہ ہستی کی
    اور کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد سے بھی


    ...