×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی

    سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی
    مرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئی

    رفو گران شہر بھی کمال لوگ تھے مگر
    ستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی

    اندھیرے میں تھے جب تلک زمانہ ساز گار تھا
    چراغ کیا جلا دیا ہوا ہی اور ہو گئی

    بہت سے لوگ شام تک کواڑ کھول کر رہے
    فقیر شہر کی مگر صدا ہی اور ہو گئی

    بہت سنبھل کے چلنے والی تھی پر اب کے بار تو
    وہ گل کھلے کہ شوخیٔ صبا ہی اور ہو گئی

    نہ جانے دشمنوں کی کون بات یاد آ گئی
    لبوں تک آتے آتے بد دعا ہی اور ہو گئی

    یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھل رہی تھیں یا کہ خود
    شگن کی رات خوشبوئے حنا ہی اور ہو گئی

    ذرا سی کرگسوں کو آب و دانہ کی جو شہہ ملی
    عقاب سے خطاب کی ادا ہی اور ہو گئی


    ...