×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی

    نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی
    کہ میری زندگی کیا ہے یہی طغیان مشتاقی

    مجھے فطرت نوا پر پے بہ پے مجبور کرتی ہے
    ابھی محفل میں ہے شاید کوئی درد آشنا باقی

    وہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھونک سکتی ہے
    طلب صادق نہ ہو تیری تو پھر کیا شکوۂ ساقی

    دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے
    نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو انداز آفاقی

    نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے
    کہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی براقی

    خزاں میں بھی کب آ سکتا تھا میں صیاد کی زد میں
    مری غماز تھی شاخ نشیمن کی کم اوراقی

    الٹ جائیں گی تدبیریں بدل جائیں گی تقدیریں
    حقیقت ہے نہیں میرے تخیل کی ہے خلاقی


    ...