×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

ہر بول اُس کا روح کے آزار چاٹ لے

ہر بول اُس کا روح کے آزار چاٹ لے
جس کی زبان خاکِ درِ یار چاٹ لے

گُل چِیں نہ پا سکا کبھی جوہر پہ دسترس
مشکل ہے کوئی پھول کی مہکار کی چاٹ لے

ملتا ہے اور تشنگئ راہرو کو چین
پانی جو آبلے کا کوئی خار چاٹ لے

رہتا ہے زلفِ یار تیری چھاؤں میں یہ دِل
جب تیز دھوپ سایۂ اشجار چاٹ لے

مٹتا نہیں کسی سے بھی رسوائیوں کا داغ
کس کی مجال، سُرخئ اخبار چاٹ لے

مل پائے ایسے قاتلِ شاطر کا کیا ثبوت
جو قتل کر کے خنجرِ خونخوار چاٹ لے

ایسے میں کیا پٹے کوئی سودا سرِ دُکاں
بائع جو اُٹھ کے مغزِ خریدار چاٹ لے

اے خوش قدم ! ذرا نظرِ بد سے ہوشیار
ایسا نہ ہو کہ شوخئ رفتار چاٹ لے

اس خوف سے وہ رکھتے ہیں زلفیں لپیٹ کر
افعٰی کہیں نہ زلف کا رخسار چاٹ لے

واعظ کی بات دِل میں جو اُترے تو کس طرح
جب کان اُس کی کثرتِ گفتار چاٹ لے

اِترائیے نہ شوکتِ فانی پہ اس قدر
دیمک کہیں نہ کرسئ سرکار چاٹ لے

منکر جو ہو نصیر کے فضل و کمال کا
کہہ دو اُسے، نوشتۂ دیوار چاٹ لے
...